مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن میں سعودی عرب سے وابستہ اور طارق صالح کی کمان میں کام کرنے والی مزدور فورسز کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوران مغربی ساحل کے علاقے میں کم از کم 2 ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب سے وابستہ فورسز کو روزانہ سیکڑوں افراد کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، تاہم یہ اعداد و شمار صرف بڑی جھڑپوں میں ہونے والے نقصانات سے متعلق ہیں۔
سعودی مزدور فورسز کے ترجمان کے مطابق پسپائی اور فرار کے دوران ان عناصر کو بڑے پیمانے پر درجنوں میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ طارق صالح خود بھی اپنے کمانڈ ہیڈکوارٹر میں موجودگی کے دوران براہ راست 18 ڈرونز کا نشانہ بنے، جبکہ دیگر کمانڈ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ یمن کی انصار اللہ فورسز نے گزشتہ دنوں ایک وسیع کارروائی شروع کرتے ہوئے سعودی عرب سے وابستہ اجرتی فورسز کو نشانہ بنایا اور باب المندب سمیت کئی اہم تزویراتی علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
آپ کا تبصرہ